Loading...
Language: Urdu
عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے: رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا، "اگر کسی بندے کو کوئی اضطراب یا پریشانی لاحق ہو، تو وہ کہے:
اَللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُــــلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي
حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔
اے اللہ، میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے (یعنی میرا اختیار تیرے پاس ہے)۔ مجھ پر تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ انصاف ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا، یا اپنی کتاب میں نازل کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا اپنے پاس علم غیب میں اسے خاص رکھا، کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، اور میرے سینے کا نور، اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میری پریشانی کو لے جانے والا بنا دے۔
Reference: صحیح (البانی) سلسلۃ الصحیحہ: ۱/۳۳۷