Loading...
Language: Urdu
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے مختصر نماز پڑھائی تو لوگوں نے کہا آپ نے نماز مختصر کر دی۔ انہوں نے کہا: اس کے باوجود میں نے اس میں ایسی دعائیں مانگی ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں۔
اَللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِيْ، وَتَوَفَّنِيْ إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اَللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأْلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اَللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ
اے اللہ! اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے وسیلے سے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانتا ہے کہ زندگی میرے لیے بہتر ہے، اور مجھے موت دے جب تو جانتا ہے کہ موت میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ! اور میں تجھ سے تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں غیب میں اور حاضری میں، اور میں تجھ سے حق بات کہنے کی توفیق مانگتا ہوں رضا مندی اور غصے کی حالت میں، اور میں تجھ سے میانہ روی کا سوال کرتا ہوں محتاجی اور مالداری میں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے فیصلے کے بعد راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک (عیش) کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں بغیر کسی نقصان دہ تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت پانے والا بنا۔
Reference: صحیح. نسائی: ۱۳۰۵