Loading...
Language: Urdu
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ ﷺ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نفل پڑھے پھر کہے:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوْبِيْ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
اے اللہ! بیشک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے، میرے دین میں، میری معاش میں اور میرے انجام کار میں، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت ڈال دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین میں، میری معاش میں اور میرے انجام کار میں، تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔
Reference: صحیح. النسائی: ۱۳۰۱